ابنا: وزیر خارجہ علی اکبرصالحی نے آج تہران میں امام خمینی اور خارجہ پالیسی عالمی کانفرنس سے خطاب میں کہاکہ حضرت امام خمینی قدس سرہ کی نظر میں اسلامی نظام کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی معاشرے میں فکری تحریک اور تہذیب نفس و آداب و اخلاق کی تبدیلی پر مبنی تحریک چلائي جائے اور جب تک معاشرے کی فرد فرد میں مثبت تبدیلیاں نہیں آئيں گي اسلامی تحریک کی بنیادیں مستحکم نہیں ہونگي۔ علی اکبر صالحی نے کہا کہ عالم اسلام کے تدریجا حقیقی اسلام سے دور ہونے کی وجہ سے ملکتب اسلام ترقی سے بیگانہ ہوکر پسماندگي کی طرف بڑھتا گيا اور اس کے گرانقدر تعلیمات تحریف کا شکار ہوتی گئيں یا انہیں طاق نسیاں کے سپرد کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینی نے مکتب اسلام کو ان بیماریوں سے نجات دلانے کا نسخہ پیش کیا اور اس کے لئے عقائد پر عمل پیرا ہوتے ہوئےانسانی اعمال و اخلاق میں تبدیلی اور حقیقی اسلام کی طرف بازگشت پر تاکید فرمائي۔ آپ نے یہ بھی تاکید فرمائي کہ ان امور پر گہرا ایمان احکام الھی کے نفاذ کے لئے ضروری ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے امام خمینی اور خارجہ پالیسی کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ایران کی ملت مسلمان کے قیام سے انقلاب کی کامیابی سے پہلے بڑی طاقتیں بھرپور طرح سے دینی مفاہم کو تحریف کررہی تھیں لیکن حضرت امام خمینی نےتاکید فرمائي کہ اسلامی اور عوامی تحریک کے اھداف الھی اور دینی اقدار کو زندہ کرنا ہے۔ انہوں کہا کہ حضرت امام خمینی نے اسلامی بیداری کے خلاف سامراج کی تمام سازشوں کو ناکام بنادیا اور گذشتہ جونتیس برسوں میں اسلامی انقلاب کے خلاف سامراج کی تمام کوششیں بے ثمر رہی ہیں۔ واضح رہے امام خمینی اور خارجہ پالیسی عالمی کانفرنس آج سے تہران میں شروع ہوئي ۔ اس کانفرنس کا عنوان اسلامی عوامی تحریکیں اور امام خمینی کی نظر میں تبدیلیاں ہے۔
.......
/169